ئی دہلی،یکم ستمبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) سپر ٹیک ایمیرالڈ کیس میں سپریم کورٹ نے منگل کو بڑا فیصلہ دیا۔ عدالت نے نوئیڈا میں واقع سپر ٹیک ایمیرالڈ کے 40 منزلہ ٹرن ٹاور کو تین ماہ کے اندر مسمار کرنے کا حکم دیا ہے۔ جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور جسٹس ایم آر شاہ کی بنچ نے یہ فیصلہ دیا۔ جسٹس چندرچوڑ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ یہ کیس نوئیڈا اتھارٹی اور ڈویلپر کے درمیان ملی بھگت کی مثال ہے۔ اس معاملے میں بلڈنگ پلان کی براہ راست خلاف ورزی کی گئی۔ نوئیڈا اتھارٹی نے اس منصوبے کو لوگوں کے ساتھ شیئر بھی نہیں کیا۔ ایسی صورتحال میں الہ آباد ہائی کورٹ کا ٹاورز گرانے کا فیصلہ بالکل درست تھا۔سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا کہ دونوں ٹاوروں کو گرانے کی قیمت سپر ٹیک سے وصول کی جائے۔
اس کے علاوہ دیگر عمارتوں کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹاورز کو مسمار کیا جانا چاہیے۔ نوئیڈا اتھارٹی کے ماہرین کی مدد لیں۔ جن لوگوں کو رقم واپس نہیں کی گئی ان کو رقم واپس کی جائے۔ عدالت نے کہا کہ فلیٹ خریداروں کو دو ماہ میں رقم واپس کی جائے۔جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ نے کہا کہ غیر منظور شدہ تعمیرات میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ ماحول کے تحفظ اور رہائشیوں کی حفاظت پر بھی غور کرنا ہوگا۔ یہ تعمیراتی حفاظت کے معیار کو کمزور کرتا ہے۔ ناانصافیوں سے سختی سے نمٹنا ہوگا۔دراصل 2014 میں، الہ آباد ہائی کورٹ نے ہاؤسنگ سوسائٹی میں قوانین کی خلاف ورزی پر دونوں ٹاوروں کو گرانے کا حکم دیا تھا۔ اس کے ساتھ اتھارٹی کے عہدیداروں کے خلاف ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ اس کے بعد سپریم کورٹ نے سپر ٹیک کی درخواست پر ہائی کورٹ کے حکم پر روک لگا دی تھی۔ نیز این بی سی سی سے کہا گیا کہ وہ تحقیقات کرکے رپورٹ پیش کرے۔